خانه / مجموعه مطالب / جاگ ضمیر جاگ، دوہرا معیار

جاگ ضمیر جاگ، دوہرا معیار

وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُواْ فِی سَبِیلِ اللّهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَاء عِندَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ (169) سورہ آل عمران

280590_182

کوئٹہ (جامعہ): عالم ربانی مجاہد صمدانی آیۃ اللہ شیخ باقرالنمر کی استعماری آلۂ کار حکومت سعودی عرب کے ہا تھوں شھادت پر ہم تمام عالم اسلام خصوصا مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیرو کاروں کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔

حکومت آل سعود سے اس کے علاوہ توقع بھی کیا رکھی جاسکتی تھی،     کہ جس نے شام و عراق میں دہشتگردی  کے لئے اربوں ڈالر خرچ کئے اور کررہی ہے، یمن میں دو سال سے ہزاروں بے گناہوں کا قتل عام سعودی حکومت  کا اہم کار نامہ ہے، اس کے علاوہ حج کے موقع پر    ”وی آئی پی”  پرٹوکول کے نتیجے میں ہزاروں حاجیوں کی موت کی ذمہ داربھی سعودی حکومت ہے۔

لیکن انسانی حقوق کے نام پر کام کر نے والی بین الاقوامی تنظیمو ں اور اقوام متحدہ کے حقوق بشر کا  راگ الاپنے والے اداروں پر افسوس ہے کہ جس نے حقوق بشر کا دوہرا معیار بنا یا ہوا ہے ایران، لبنان، شام اور عراق میں توان کو حقوق بشرکی پامالی نظر آتی ہے، مگر سعودی عرب اور بحرین میں حقوق بشر کا ذرہ برابر خیال نہیں اور وہاں کے لئے  انکا معیار الگ ہے۔

اس سے پتہ  چلتا ہے کہ حقوق بشر کے اکثر ادارے بشمول اقوام متحدہ اور دیگر تنظمیں اسرائیلی امداد اور امریکی سیاست کے زیر سایہ پلتے اور چلتے ہیں، اور جہاں انکا مفاد ہو چاہے وہاں حقوق بشر کو حکومتی دہشتگردی کا نشانہ بنایا جارہا ہو، توبلکل چپ سادھ لی جاتی ہے اور آنکھوں پر پٹی باند لی جاتی ہے، لیکن جہاں انکے مفاد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہواسکے خلاف حقوق بشر کی خلاف ورزی کا ڈھنڈورا پیٹا جا تا ہے اور اس ملک پر طرح کی پابند یاں لگائی جاتی ہیں بلکہ جنگ تھوپ دی جاتی ہے تا کہ وہ ملک ان کے سامنے سرہی نہ اٹھاسکے۔

وہ ملک جہاں عرصہ دراز سے حقوق بشر پا ما ل ہو رہے ہیں سعودی عرب  جہاں جنت البقیع کو مسمار کرنے سے لیکر “آیۃ اللہ شیخ باقر النمر” کی شہادت تک تمام مسائل میں اقوام متحدہ اور دیگر ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، جہاں حتی دکھاوے کے لیئے بھی پارلیمنٹ نام کی کوئی چیز نہیں۔ جہاں کے عوام اپنے ابتدائی ترین  سیاسی  حق یعنی حق رائے دہی (ووٹ) سے محروم ہیں۔

جہاں خواتین کے حقوق کو پا مال کرنا کوئی بڑی بات نہیں اور خواتین ڈرائیونگ جیسے معمولی حق سے بھی محروم ہیں۔

9bc8b46d909a62fb6e8340479e048bec

شیخ باقرالنمر کوئی دہشتگرد نہیں تھے بلکہ سعودی عرب میں اپنے حقوق کی جنگ لڑرہے تھے۔ وہ ایک شیعہ عالم ہونے کے با وجود ملک میں مستضعفین کے حقوق کیلئے کوشاں تھے۔

شہید نمر آل سعود کو ایک فاسق و فاجر اور نالائق حکومت سمجھتے تھے، جسکو حتی اپنے اچھے اور برے، دوست و دشمن تک کی بھی پہچان نہیں۔ وہ مذہب تشیع کی جنگ لڑنے میدان میں نہیں اترے، بلکہ مظلوموں کو انکا حق دلانے کیلئے حکومت کو للکارتے تھے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ انکا شیعہ ہو نا حکومت کی نظر میں انکا سب سے بڑا  جرم تھا۔

آخر میں کچھ اپنے ملک پاکستان کی حکومت اور میڈیا کے بارے میں بھی عرض کرتا چلوں کہ حکومت تو کبھی اس واقعے کی مذمت نہیں کرسکتی، اس لیئے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہماری حکومت سعودی عرب کی گود میں بیٹھ کر دودھ پینے کی عادی ہو چکی ہے، اور دو سری بات  یہ ہے کہ حکومت کی نظر میں یہ مسئلہ سعودی حکومت کے داخلی مسائل میں سے ہوگا، لھذا ہماری حکومت میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ کم از کم مذمت ہی کرسکے۔

لیکن اس سے زیادہ آج کل الیکٹرانک “میڈیا کے کئی ٹی وی ” چینلز سعودی عرب کی خاموش حمایت میں مصروف ہیں،  حتی کہ  ایک چینل ( (ARY نے اپنی خبروں میں شیخ باقرالنمر کو القاعدہ کے دہشتگردوں میں سے قرار دیا   جوعالمی کے تجزیئے کے مطابق ایک مضحکہ خیز بات ہے!۔

اس سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے پاکستان کے بہت سے چینلز کس طرح سعودی عرب کی حمایت کررہے ہیں، جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ شیخ النمر کون تھے اور ان کی فعالیت کیا تھی۔ اس سلسلہ میں ہمارا میڈیا  “صمٌ بکمٌ     “   کا ایک کامل مصداق ہے۔

لیکن امیدہے کہ شیخ باقرالنمر کی شہادت حکومت آل سعود کے خاتمے کیلئے ایک چنگاری بن جائے گی اور یہ قطرۂ خون جو گراہے وہ انقلاب کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں تبدیل ہو جائے گا، اور ساتھ ہی دنیا کے آزاد منش لوگوں کو بیدار کرنے کا بہترین وسیلہ بنے گا۔

 نویسندہ : مولانا غلام حسنین ” وجدانی”

 

 

درباره علی یوسفی

پاسخ بدهید

ایمیلتان منتشر نمیشوذفیلدهای الزامی علامت دار شده اند *

*

شما می‌توانید از این دستورات HTML استفاده کنید: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

رفتن به بالا